Posts

حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ

 مولانا روم نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے اللہ کی عبادت کرنا شروع کر دی اور پروردگار کی عبادت میں اتنا مشغول ہوا کہ دنیا میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب کچھ بھول دیا اور سچے دل سے اللہ کی رضا میں راضی رہنے کے لیے انسانیت کے رستے پر چل پڑا. مولانا روم کہتے ہیں کہ ایک وقت وہ آیا کہ اس کے گھر میں کچھ کھانے کو بھی نہ بچا اور ہوتے ہوتے وہ وقت بھی آیا کہ گھر باہر سب ختم ہو گیا اور وہ شخص چلتے ہوئے موت کے انتظار میں گلیاں گھومتا کہ اب پلے تو بچا کچھ نہیں تو انتظار ہی کر سکتا ہوں اللہ سنبھال لے. ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ دیکھا اس کے قریب سے ایک لمبی قطار میں گھوڑے گزرے... ان گھوڑوں کی سیٹ سونے اور چاندی سے بنی ہوئی تھی اور ان کی پیٹوں پر سونے کے کپڑے پہنے ہوئے تھے. ان گھوڑوں پر جو لوگ بیٹھے تھے وہ کسی شاہی گھرانے سے کم نہ لگتے تھے ان کے سروں پر سونے کی ٹوپیاں تھیں اور ایسے معلوم ہو رہا تھا کوئی بادشاہ جا رہے ہیں. اس شخص کے دریافت کرنے پر اسے بتایا گیا کہ یہ ساتھ گاؤں میں ایک بادشاہ ہے یہ سب اس کے غلام ہیں اور بادشاہ کے دربار میں جا رہے ہیں. وہ شخص کچھ دیر حیران ہوا کہ یہ حالت غلاموں کی ہے تو ...
 حضرت جابر بن رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی تو میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا، اور پوچھا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا..... اس نے ایک تھیلا نکالا ، جس میں ایک صاع جو تھے، اور ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ پلا ہوا تھا، میں نے اسے ذبح کیا،اور میری بیوی نے آٹا پیسا، وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی۔ میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا اس کے بعد میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا۔.... "بیوی نے کہا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کے سامنے مجھے رسوا نہ کرنا-"( یعنی زیادہ آدمیوں کی دعوت نہ کردینا)..... جب میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو چپکے سے عرض کیا: " یا رسول اللّٰہ ہم نے ایک بکری کابچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا ہمارے پاس تھا، وہ تیار کیا ہے۔ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم چند لوگوں کے ساتھ تشریف لے چلئے۔" یہ سن کر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پکارا اور فرمایا: "اے خندق والوں جابر نے تمہاری دعوت کی ہے۔ لہذا چلو ...