حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا روم نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے اللہ کی عبادت کرنا شروع کر دی اور پروردگار کی عبادت میں اتنا مشغول ہوا کہ دنیا میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب کچھ بھول دیا اور سچے دل سے اللہ کی رضا میں راضی رہنے کے لیے انسانیت کے رستے پر چل پڑا. مولانا روم کہتے ہیں کہ ایک وقت وہ آیا کہ اس کے گھر میں کچھ کھانے کو بھی نہ بچا اور ہوتے ہوتے وہ وقت بھی آیا کہ گھر باہر سب ختم ہو گیا اور وہ شخص چلتے ہوئے موت کے انتظار میں گلیاں گھومتا کہ اب پلے تو بچا کچھ نہیں تو انتظار ہی کر سکتا ہوں اللہ سنبھال لے. ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ دیکھا اس کے قریب سے ایک لمبی قطار میں گھوڑے گزرے... ان گھوڑوں کی سیٹ سونے اور چاندی سے بنی ہوئی تھی اور ان کی پیٹوں پر سونے کے کپڑے پہنے ہوئے تھے. ان گھوڑوں پر جو لوگ بیٹھے تھے وہ کسی شاہی گھرانے سے کم نہ لگتے تھے ان کے سروں پر سونے کی ٹوپیاں تھیں اور ایسے معلوم ہو رہا تھا کوئی بادشاہ جا رہے ہیں. اس شخص کے دریافت کرنے پر اسے بتایا گیا کہ یہ ساتھ گاؤں میں ایک بادشاہ ہے یہ سب اس کے غلام ہیں اور بادشاہ کے دربار میں جا رہے ہیں. وہ شخص کچھ دیر حیران ہوا کہ یہ حالت غلاموں کی ہے تو ...